Computer education is important for time to join development

ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے کمپیوٹر کی تعلیم وقت کی اہم ضرورت تحریر:ایان رضا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا دارومدار اس کے نظام تعلیم پر ہی رہا ہے۔اگر آج چین،جاپان،امریکہ ویورپ ٹیکنالوجی اور دوسرے میدانوں میں سب سے آگے بڑھنے کی جستجو میں ہیں تو اپنے نظام تعلیم کی وجہ سے ہیں لیکن ہمارا تعلیمی نظام ابھی تک اصلاحات کا منتظر ہے۔ تعلیم کو ایک بزنس بنادیا گیا ہے اور تقسیم کردیا گیا ہے۔طبقاتی تقسیم میں اس نظام کو بھی تقسیم کردیا گیا ہے جو ایک زہر سے کم نہیں ہے۔ سسٹم تشکیل دینے والے افراد کی نسلیں اعلیٰ تعلیم اپنے اعلیٰ اداروں میں حاصل کرتی ہیں جبکہ متوسط طبقہ اور غریب طبقہ کے لئے وہی پرانا گلاسڑا نظام تعلیم موجود ہے اور اب اسے پرائیوٹائز کرکے ختم کرنے کی جستجو میں ہیں۔اس ساری طبقاتی تقسیم کی وجہ سے ہمارے ملک میں تعلیم علم حاصل کرنے کے لئے حاصل نہیں کی جاتی جس سے مراد روح کی بالیدگی اور سیرت وکردارکی تعمیر وتشکیل ہے بلکہ محض اس کے افادی پہلو یعنی ملازمت یا روزگار حاصل کرنے کے لئے حاصل کی جاتی ہے اور اسے محض معاشی تسکین کا آسان اور واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔اور اب بیروزگاری کی وجہ سے لوگ بڑی مشکل سے میٹرک کر نے کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ دیتے ہیں جس کی بنیادی وجہ اعلیٰ تعلیم یافتہ گریجوایٹس کو روزگار کا ناملنا ہے کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات جاگزیں ہوجاتی ہے ہے کہ تعلیم کا حصول صرف اور صرف حصول ملازمت ہے پھر صرف ناکامی ہی دیکھنی پڑتی ہے۔گویا وہ تعلیم کے مادی پہلووں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور روحانی پہلووں کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم کے حصول کے لئے اپنی اپنی قومی زبانوں کو ذریعہ تعلیم قرار دیا اور اپنایا ہے مگر ہمارے ہاں صورتحال برعکس اور مضحکہ خیز ہے۔ہم نے قومی زبان اردو کو چھوڑ کے انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم قرار دے رکھا ہے اور انگریزی کو ایک ’امرت دھارا‘ سمجھ لیا ہے جیسے اس کے بغیر کوئی قوم ترقی نہ کرسکی ہو۔چین کے نظام معیشت کا اگر موازنہ کرلیا جائے تو چین کی جس میدان میں جتنی بھی ترقی ہوئی ہے تو اپنی قومی زبان کی وجہ سے ہوئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے تاہم انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ترقی کے اس جدید دور میں کمپیوٹر نہ جاننے والے ماسٹر ڈگری ہولڈر کو بھی ان پڑھ سمجھا جاتا ہے چونکہ آج اور آنے والے وقت میں کسی بھی سرکاری اور نیم سرکاری دفتر کے ہیڈ سے لے کر چپڑاسی تک تمام کام بذریعہ کمپیوٹر ہو رہا ہے۔حکومتیں کمپیوٹر کی تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں لیکن بڑھتی ہوئی ابادی کے پیش نظر حکومت سو فیصد آبادی کو کمپیوٹر کی تعلیم سے واقفیت نہیں کر سکتی۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان اور آزادکشمیر میں جہاں دیگر پرائیویٹ ادارے کمپیوٹر کے فروغ کیلئے کام کر رہے ہیں وہاں پریمیم ٹیکنالوجیز (یوکے)نے پاکستان و آزادکشمیر میں اپنا نیٹ ورک قائم کرتے ہوئے کمپیوٹر کی تعلیم کے فروغ کیلئے عملی اقدامات شروع کررکھے ہیں۔آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں قائم مہاجرکییمپوں میں مقیم نوجوانوں طلباء و طالبات کو کمپیوٹر کی جدید تعلیم سے مستفید کرنے کیلئے مختلف مقامات پر مختلف سکولوں میں پندرہ کمپیوٹر لیبز قائم کر دی گئیں جبکہ ضلع نیلم اور جہلم میں بھی کمپیوٹر سنٹر قائم کیے جا رہے ہیں۔ان کمپیوٹر سنٹر میں مستحق طلباء و طالبات کو مفت کمپیوٹر تعلیم دی جائے گی۔ ہمارے نظام تعلیم کا ایک اور نقص یہ بھی ہے کہ تعلیم کے ابتدائی مراحل میں مضامین کی تخصیص کردی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبا اپنے دلپسندایک یا دومضامین کے علاوہ دوسرے مضامین سے اور انسانی علوم سے غفلت برتنے لگتے ہیں۔حالانکہ تمام مضامین میں ایک قدرتی ربط موجود ہے مثلاًًاگر کسی طالبعلم نے انجینئرنگ یا میڈیکل یا کسی دوسرے سائینسی مضمون کی تعلیم حاصل کرنا ہوتوثانوی تعلیم کے بعد اس کا عام مضامین سے تعلق کٹ جاتا ہے اور معاشرتی علوم کے بارے میں اس کی معلومات محض سنی سنائی معلومات تک محدود ہوجاتی ہیں اور وہ اپنے سائنس کے علم کے بارے میں متعصب ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ ہمارانظام تعلیم فنی تعلیم کے شعبہ میں بری طرح عدم توجہی کا شکار ہے۔ آزاد حکومت سمیت صوبائی حکومتوں نے ٹیوٹا سینٹرز کو آگے بڑھانے کی جستجو کی ہے جس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ ااس وقت ملک عزیز میں فنی کاریگروں اور سائنسی مہارت کے حاملین کی ضرورت ہے جوزراعت،صنعت،بزنس منیجمنٹ،کمپیوٹرسائنسز کو جدید ٹیکنالوجی طریقوں میں مکمل مہارت رکھتے ہوں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان و آزادکشمیر میں طلباء و طالبات کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ ابتداء سے ہی دینی اور کمپیوٹر کی تعلیم کو نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ بعد ازاں طلباء کو آسانی ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طلباء کی بنیادی تعلیم ایسی ہونی چاہئیے کہ وہ ایک ذمہ دار آزاد شہری ہونے کی حیثیت سے تعلیم برائے حصول علم حاصل کر سکیں۔ سب سے پہلے تعلیمی نظام کو ایک نظام میں تبدیل کیا جائے۔تعلیمی اداروں کی طبقاتی تقسیم کا قلع قمع کیا جائے تاکہ قوم کا مستقبل اتحاد کا ضامن ہو، ایک نظام تعلیم ہونے سے قوم کی وحدت واتحاد کی راہیں کھلیں گی۔مذہبی، لسانی تعصبات کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے جب تعلیمی نظام ایک سلیبس پر مشتمل ہوگا۔سرکاری ونجی اسکولوں میں ایک ہی کورس پڑھایا جائے اور بنیادی تعلیم سے کر اعلیٰ تعلیم تک اپنی قومی اردو زبان میں ہو کیونکہ قومی زبان ہی ہمارے اتحاد کو قائم کرسکتی ہے جو طلبا کی شخصیت میں رچ بس کر ان کے لئے روشنی وہدایت مہیا کرسکتی ہے جو تعلیم کا مقصد ہے۔ ابتدائی تعلیم آسان بنانے کے ساتھ ساتھ تربیتی بنائی جائے، کیونکہ ہماری ابتدائی تعلیم میں تربیتی فقدان پایا جاتاہے۔

Computer Education is Necessar